جنسی تعلیم کی بچوں کو نہیں درندوں کو ضرورت ہے

  • by Admin
  • جنوری 16, 2018
  • 3
  • 95  Views
  • 0 Shares

 

زینب پر جنسی تشدد اور بہیمانہ قتل نے بہت سارے سوالوں کو جنم دیا ہے جن میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ اس سانحے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اسے مکمل طور پر حکومتی ذمہ داری قرار سے رہے ہیں تو کچھ والدین کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگر بچوں کو جنسی تعلیم دی جائے اور انہیں اپنی حفاظت کے گُر سکھائے جائیں تو اس طرح کے واقعات کو روکا جاسکتا ہے۔
میرے خیال میں ہم سب ہی ان واقعات کے ذمہ دار ہیں۔ بے شک بحیثیت والدین بچوں کی حفاظت اور تعلیم و تربیت کی اولین ذمہ داری والدین پر ہی عائد ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ریاست ٗ حکومت ٗ انتظامیہ اور معاشرے کا ہر فرد معاشرے میں امن و امان قائم رکھنے کا ذمہ دار ہے۔ حکومت پہلے دن سے اس بیانیے کو عام کرنے کی مہم چلارہی ہے کہ زینب کےساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ اس کے والدین کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہوا اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ہمارے کچھ صحافی اور دانشور بھی اسی بیانیے کو ڈھول کی طرح پیٹتے چلے جا رہے ہیں۔
والدین کی ذمہ داریوں سے انکار ممکن نہیں لیکن فرد اور ریاست کے مابین تعلق کو مکمل طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ریاست ہر فرد کی جان و مال اور عزت و آبرو کی ضامن ہوتی ہے اس کے بدلےمیں فرد ریاستی قوانین پر عملدرآمد کا پابند ہوتا ہے اور ریاستی امور کو خوش اسلوبی سے چلانے کیلیے ٹیکس بھی ادا کرتا ہے۔ لیکن فرد اور ریاست کا یہ تعلق اس حوالے سے بہت دلچسپ ہے کہ پہلے ریاست فرد کی طرف اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی ہے جبکہ فرد جوان ہونے کے بعد ذمہ داریاں پوری کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
زینب سمیت اس ظلم کا شکار ہونے والی تمام بچیاں عمر کے جس حصے میں تھیں اس میں ذمہ داریاں ادا نہیں کی جاتیں بلکہ سہولیات سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ ریاست ان بچیوں کی طرف اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے اور ریاستی امور پر قابض حکمران عوام کو گمراہ کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں کہ ان بچیوں کے والدین اصل میں قصور وار ہیں کیونکہ وہ اپنے بچوں کا خیال نہیں رکھ پائے۔ والدین سے زیادہ ان واقعات کی ذمہ دار حکومت اور انتظامیہ ہے اسے ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ گھر کے اندر روشنی اور حفاظت کی ذمہ داری والدین کی ہوتی ہے لیکن جب بچے گلی میں جاتے ہیں تو گلی میں روشنی اور حفاظت کا انتظام والدین سے زیادہ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح جب وہ بچہ تعلیمی اداروں میں جاتا ہے تو وہاں تمام بچوں کی ذمہ داری والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور حکومت پر عائد ہوتی ہے اور جب وہی بچہ کھیل کے میدان میں پہنچتا ہے تو ریاست کی ذمہ داری وہاں بھی ختم نہیں ہوتی بلکہ ریاست اس بات کی پابند ہے کہ وہ کھیل کے میدان میں تمام بچوں کی حفاظت اور پرامن ماحول کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
عمرانیات کے کسی بھی ماہر کی رائے لے لیں یا کسی بھی عمرانی معاہدے کو اٹھا کر دیکھ لیں ریاست کی ذمہ داریوں کا ذکر سب سے پہلے ملتا ہے۔ والدین ہر جگہ بچے کے ساتھ نہیں جاسکتے صرف ریاست ہی ہر وقت اور ہر جگہ فرد کے ساتھ ہوتی ہے اور اگر چاہے تو ساتھ رہ بھی سکتی ہے۔ والدین بچوں کے ساتھ سکول جا سکتے ہیں اور نہ ہی کھیل کے میدانوں میں ٗ مسجد اور مدرسے میں بھی ہر وقت کا ساتھ ممکن نہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ پرامن ماحول کو یقینی کیسے بنایا جائے؟ جواب بہت سادہ ہے اور سیدنا عمر فاروق ؓ بہت پہلے اس کا جواب عنایت کرچکے اور دنیا کی ترقی یافتہ اور مہذب قومیں اس جواب کو مشعل راہ بنائے ہوئے ہیں۔ آپؓ نے فرمایا تھا کہ دریائے دجلہ کے کنارے اگرایک کتا بھی بھوکا مرگیا تو سوال عمرؓ سے پوچھا جائے گا۔
ریاست اور حکومت اگر واقعی سنجیدگی سے اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے اپنی ذمہ داری کو قبول کرے اور پھر اس ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہونے کی حکمت عملی وضع کرے اور ایمانداری سے اس حکمتِ عملی کو نافذ کرے۔
آپ جنسی تعلیم دینا چاہتے ہیں ٗ بخوشی دیں لیکن اس کا آغاز معصوم بچوں سے پہلے ان جنسی درندوں سے کریں جو ان بچوں اور عورتوں کو جیتے جاگتے انسان کی بجائے گوشت کا ایک لوتھڑا سمجھتے ہیں۔ پہلے ان درندوں کے ذہنوں سے گندگی کُھرچ کر باہر نکالیے ٗ ان کی آنکھوں کی بھل صفائی کیجیے ٗ ان کے اعضائے رئیسہ کو ان کی صحیح جگہ پر لگائیے ٗ ان کی آنکھوں اور دماغ سے اعضائے تناسل کو اکھاڑ کر اسی جگہ پر لگائیے جہاں ان کو ہونا چاہیے اور اگر یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی ان درندوں میں سے کوئی ایسی حرکت کرے تو اسے ایسی سزا دیجیے کہ اس کے اعضائے رئیسہ و اعضائے تناسل ایک دوسرے کی پہچان بھول جائیں۔ جب یہ سب کچھ کر چکیں تو بچوں کے ننھے اور پاکیزہ ذہنوں کو جنسی تعلیم کا بارِ گراں اٹھانے کی زحمت دیجیے۔
تعلیم ٗ ترقی ٗ جدت ٗ روشن خیالی اور حقوق کے نام پر اپنے مفادات کی بساط بچھانے والی این جی اوز اور موم بتی مافیا سے بھی بچ کر رہیں اور ہاں رانا ثناء جیسے لوگ ماتھے کا کلنک ہوتے ہیں انہیں جُھومر بنانے کی ضد نہ کریں۔

Post Tags:

Total Comments ( 3 )

  • محمد طارق نے کہا:

    ریاست،ریاست،ریاست

    کان پک گۓ ریاست دشمن عناصر سے یہ لفظ سن سن کر کہ زینب اور اُس سمیت تمام معصوم بچوں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ افراد اور گروہ جو ریاست کا جزوِ لا ینفک ہے وہ ہر قسم کی ذمہ داری سے مبرٌا ہیں۔ جب بھی ملک میں کہیں اس قسم کی درندگی کا کو ئی واقعہ ہو جاۓ اور اس میں متاثرہ افراد کا کوئی بھی تعلق کسی بھی قسم کی جماعت یا گروہ سے نکل آۓ تو آری،بھالا،پتھر، ڈنڈا غرض جو چیز ہاتھ میں آ جاۓ لے کر حکومت اور ریاست پرپِل پڑو اور اپنے سامنے آنے والی ہر چیز کو جو آپ کے لئے ہی بنائی گئی ہے کو رتباہ کر دو۔ اور جب یہ اُبال ٹھنڈا پڑ جاۓ تو ایک بار پھر یہ سب ہتھیار لے کر حکومت پر پل پڑو کہ ریاست ہمیں بنیادی ضروریات مہیا کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ ارے کوئی ان سے پوچھے کہ کل ہی تو آپ نے ہسپتال،سکول،تھانے،کمشنر آفس،سڑکیں،پلیں اور بجلی گھر توڑے ہیں۔ ریاست راتوں رات یہ سب دوبارہ آپ کیسے اور کیوں بنا کر دے۔ کیا گارنٹی ہے کہ کل آپ پھر اپنے پاؤں پر کلہاڑی نئیں ماریں گے۔
    زینب کِے واقعے پر سیاست تو سب کر رہے ہیں اور رج کے کر رہے ہیں مگر اُن اسباب کی روک تھام کیلۓ نہ کوئی جامعہ اور قابلِ عمل منصوبہ دے رہا ہے اور نہ ہی کوئی ٹائم فریم دے کر اس کا ساجھے دار بننے پر تیار ہو رہا ہے۔ اب سب کو بس انصاف چاہیے اور وہ بھی کن فیکون کے جیسا۔
    آئیے معاشرے کے اہم جز اور مذھبی رہنماؤں کا رویہ دیکھتے ہیں جو خود اور اُن کی تنظیمیں خود کو مصلح اور خیر خواہِ انسانیت سمجھتے ہیں۔ ریاست میں موجود چالیس سے ساٹھ فیصد معصوم بچوں کے دماغوں کی دینی اور معاشرتی تربیت یہی لوگ کرتے ہیں اور وہ بھی معاشرے کے صدقہ، ذکوتہ اور خیرات کے پیسوں سے۔ جب ان لوگوں سے سوال کیا جاۓ کی معاشرے میں اتنے زیادہ اثر و رسوخ کے با وجود یہ دینی اور مذھبی معاشرہ اتنا بے راہ رو،غیر متوازن ، عدم برداشت کا شکار اور اخلاق باختہ کیوں ہے۔ تو یہ حضرات نہ صرف آپے سے باہر ہو جاتے ہیں بلکہ کفر و قتال کے فتوے الگ سے لگا دیتے ہیں۔
    ججنسی بے راہ روی اور عریانیت کی وجہ میڈیا کو قرار دیتے ہیں اُسی نامراد اور ناپاک میڈیا کو اپنے ریاست مخالف پروپیگنڈا کی ترویج کیلۓ بے دریغ بہ زورِ بازو استعمال کرتے ہوۓ ذرا بھی نہیں شرماتے۔ ذرا ان کا نظریہ براۓ تدارکِ جنسی استحصال ملاحظہ ہو۔
    سابق امیرِ جماعت اسلامی منور حسن فرماتے ہیں آگر عورت کے پاس اپنے ساتھ ہوۓ جنسی زیادتی کے چار بالغ اور مؤمن گواہ نہ ہوں تو اُس کو چپ رہنا چاہیے۔ (کیا یہ جنسی درندوں کیلۓ ترغیب نہیں)۔
    مولانا ابتسام الہی ظہیر فرماتے ہیں کی اپنی زر خرید لونڈیوں کے ساتھ جنسی تعلق جائز ہے۔ (طوائفوں کو بھی عارضی طور پر تھوڑے وقت کیلۓ خریدا ہی جاتا ہے۔ تو کیا یہ پروسٹیٹوشن کی حوصلہ افزا ئی نہیں)۔
    خادم حسین رضوی سےجب فیصل آباد میں بچے کے ساتھ زیادتی کرکے مدرسے سے اس کی لاش پھینکنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ حسبِ عادت آپے سے باہر ہو کر میڈیا پر فحاشی اور عریانی پھیلانے کیلۓ برس پڑے۔ انہوں نے اسلام آباد کے دھرنے میں اپنے ارد گرد علماء، قطب اور اولیاء کے بیٹھنے کا دعوی کیا تھا۔ کیا یہ بتانا پسند فرمائیں کی کہ ان کے متقی مصاحبین کا دین اور ایمان اتنا کمزور ہے کی میڈیا ان کو جنسی درندگی تک نہ صرف اکسا دیتا ہے بلکہ جنسی درندوں کی درندگی کی توجیہ تک دینے پر مجبور کرتا ہے۔ ہم نے تو دین میں مومن کے بارے میں یہ پڑھا تھا کہ مومن اور متقی وہ ہو تا ہے جو گواہوں کی عدم موجودگی میں گناہ کی تحریک، تر غیب اور طاقت ہونے کے باوجود بھی گناہ نہ کرے۔ یہ صاحب اپنے جھوٹے معتقدین اور لونڈے لپاڑوں کو یہ سمجھا کر جنسی درندگی سے باز کیوں نہیں رکھ سکتے۔

    دوم ہم جن کافروں کو رائندہ درگاہ اور جہنمی سمجھتے ہیں ان کے ریاستی نظام کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے۔ مگر کبھی کسی کو یہ نہیں بتاتے کہ ان معاشروں میں ریاستیں طاقتور اس لیے ہیں کہ افراد اور گروہوں پر ریاستی قوانین کی بلا رنگ ونسل اور قومیت و مذھب بالا دستی ہے جہاں کوئی اس لیے نہیں بچ سکتا کہ وہ مذھبی ، سماجی یا سیاسی استحقاق والا لیڈر ہے۔ اور یہ کہ جرم جب اور جہاں ہو جاۓ ریاست کے خلاف ہوتا ہے اور افراد جرائم کی بیچ کنی کیلۓ ریاست کے ساتھ تعاون کے ہمہ وقت پاپند ہیں۔ علاوہ ازیں افراد اپنے جان و مال اور عزت و آبرو کے ساتھ دوسروں کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے امین بھی ہیں۔ اپنی اولاد کی تربیت ، قانون کی پاسداری،اور ریاستی آئین اور اداروں کے ساتھ وفاداری کے نہ صرف ذمہ دار ہیں بلکہ نگران بھی ہیں۔
    ہمارے وطنِ عزیز میں اسی فی صد افراد زندگی کی کسی نہ کسی سٹیج پر جنسی استحصال کا شکار ہوۓ ہیں۔ وجہ صرف عدم آگاہی اور تربیت کا ہے کبھی مذھب کی آڑ میں تو کبھی معاشرتی اقدار اور روایات کے چکر میں۔ جب مردوں اور عورتوں کو زندگی کی اوائل سالوں میں یہ معلوم ہی نہیں ہو گا کہ وہ مرد یا عورت کیوں ہیں اور جنسی استحصال کیا ہے اور اُن کو جنسی تشدد کا نشانہ کس کس طرح سے بنایا جا سکتا ہے تو ایسے واقعات کی روک تھا م صرف اور صرف ریاست کبھی بھی نہیں کر سکتی۔ ریاست کے پاس اس کو روکنے کیلۓ چاہے لا محدود وسائل بھی کیوں نہ موجود ہوں۔
    ہم تمام افراد اور گروہ جب تک پوری ایمانداری اور جانفشانی کے ساتھ ریاست ، ریاستی اداروں ، آئین اور قانون کے ساتھ ان قبیح جرائم کی بیج کنی کیلۓ کھڑے نہیں ہو جاتے یہ سلسلہ تا قیامت ختم تو کیا کم بھی نہیں ہو سکتا۔
    ہم جب تک ریاست اور اس کے اداروں کو مانیں گے ہی نہیں تو جرائم اور انتشار ختم ہو ہی نہیں سکتے۔

  • محمد طارق نے کہا:

    اس کو آرٹیکل کے طور پر جگہ دے دیں۔ اگر مناسب لگے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*