قصور،ایک سال میں کب کیا ہوا؟

  • by Admin
  • جنوری 13, 2018
  • 0
  • 107  Views
  • 0 Shares

 

‏لاہور(جبار چودھری )
سال 2017میں قصور میں بچیوں کے اغوا زیادتی اور قتل کے کل 11واقعات ہوئے جن میں 6بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا جبکہ پانچ بچیوں کے ساتھ زیادتی کی گئی لیکن ان کو زندہ چھوڑ دیا گیا۔ خبرستان کے ذرائع کے مطابق ان گیارہ میں سے 6مقدمات کے ملزم گرفتار ہوئے یا پولیس مقابلے میں مارے جاچکے ہیں جبکہ پانچ مقدمات کے ملزموں کا بھی تک پولیس کوئی سراغ نہیں لگاسکی ۔
2017کا پہلا واقعہ 8جنوری کو پیش آیا جس میں چھ سالہ بچی عائشہ کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا ۔ اس کیس میں پولیس نے 30مشتبہ افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے لیکن ابھی تک اصل ملزم گرفتار نہیں کیا جاسکا ۔بچی کاتعلق بیرون کوٹ پکا قلعہ قصور سے ہے ۔

زیادتی کے بعد قتل کی گئی عائشہ

دوسرا واقعہ علی پارک قصور میں پیش آیا جس میں پانچ سالہ امان فاطمہ کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ۔اس واقعے کا مقدمہ تھانہ صدر میں 24فروری کو درج ہوا جس کا ملزم علی پارک کا ہی رہائشی تھا جس کو پولیس مقابلے میں ماردیاگیا۔
تیسرا واقعہ امین خان ٹاؤن میں 11اپریل 2017کو رونما ہوا جس میں نورفاطمہ نامی سات سالہ بچی کو درندے نے زیادتی کے بعد قتل کیا اور یہ درندہ بھی تک آزاد ہے اس مقدمے میں پولیس 16مشتبہ افراد کے ڈی این اے کرواچکی ہے۔
چوتھا واقعہ قادر آباد بائی پاس قصور میں پیش آیا جہاں 11سالہ فوزیہ کو زیادتیکے بعد قتل کیا گیا اس کیس میں ملزم پتوکی کارہائشی امانت علی تھا جو پولیس مقابلے میں مارا گیا ۔
پانچواں واقعہ کوٹ صدیق سرائے مغل میں 8سالہ طاہرہ کے ساتھ پیش آیا جس میں بونگہ بلوچاں سے تعلق رکھنے والے ملزم عارف نے بچی کے ساتھ زیادتی کی لیکن اسے قتل نہیں کیا ۔ یہ ملزم گرفتار ہے اور ٹرائل جاری ہے ۔
چھٹا واقعہ بستی خادم آباد قصور میں پیش آیا جہاں 8جولائی 2017کو 8سالہ لائبہ کو زیادتی کانشانہ بنایا گیا اور قتل کردیا گیا ۔ اس کیس میں بھی ملزم گرفتار نہیں ہوسکا اور پولیس اب تک 24افراد کے ڈی این اے کرواچکی ہے ۔
ساتواں واقعہ پکی حویلی مصطفیٰ آباد میں پانچ سالہ جہاں پانچ سالہ فاطمہ کو پہلے واقعہ کے صرف چار دن بعد 12جولائی 2017کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔اس کیس کے ملزمابرار اور وقاص بھی گرفتار ہیں اور ٹرائل جاری ہے۔ان ملزموں کا تعلق بھی پکی حویلی سے ہی ہے ۔
آٹھواں واقعہ تحصیل چونیاں میں پیش آیا جہاں 7سالہ اقرا کے ساتھ زیادتی کی گئی اس کیس میں ملزم ساجد کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا اور اس کو گرفتار کرکے ٹرائل کیا جارہا ہے۔
نواں واقعہ کنگن پور کے علاقے میں پیش آیا جہاں سات سالہ ایمان فاطمہ کے ساتھ زیادتی کی گئی اس کاملزم بھی گرفتار ہوچکا ہے غلام یحیٰ کاتعلق بھی اسی علاقے سے ہے اور اس کا ٹرائل جاری ہے ۔
دسواں واقعہ 12نومبر کو پیش آیا جس میں 6سالہ کائنات بتول سے کوٹ اعظم خان میں زیادتی کی گئی اس کیس میں بھی ملزم ابھی تک آزاد ہے اور پولیس 14افراد کا ڈی این اے کروا چکی ہے ۔

زیادتی کا شکار بنائی گئی ننھی کائنات

گیارھواں واقعہ زینب کے ساتھ 4جنوری 208کو پیش آیا جس کے ملزم ابھی تک گرفتار نہیں کیے جاسکے اور اسی واقعہ کے بعد باقی دس واقعات بھی ہائی لائیٹ ہوئے ۔

Post Tags:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*