کیسا نظام ہے لوگ مقدمے کا سن کر خوش ہوتے ہیں

  • by Admin
  • جنوری 13, 2018
  • 0
  • 39  Views
  • 0 Shares

کراچی ،مانیٹرنگ ڈیسک

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ مقدمات کے فیصلے جلد ہوں لیکن موجودہ وسائل میں یہ بہت مشکل بات ہے. کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مقننہ نہیں ہیں کہ قانون سازی کرسکیں. لیکن سستا انصاف فراہم کرنا ان کی خواہش ہے. انہوں نے کہا کہ مقدمات کو طوالت سے بچانے کے لیے بھاری جرمانے متعارف کروانے پڑیں گے.

انہوں نے کہا کہ دوسرے ممالک میں لوگ مقدمات عدالتوں میں لے جانے سے ڈرتے ہیں لیکن پاکستان میں اگر کوئی کہے کہ میں مقدمہ کردوں گا تو دوسرا فریق خوش ہوجاتا ہے. یہ بات بہت پریشان کن ہے. کیونکہ کرائے دار جانتا ہے کہ معاملہ عدالت چلاگیا تو کئی سال تک لٹک جائے گا.

چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سازی ان کے بس میں نہیں ہے قانون سازی پارلیمنٹ نے کرنی ہے اس لیے وہ بے بس ہیں

انہوں نے کہا کہ انصاف نہ ملنے کا الزام عدلیہ پر لگایا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ایف آئی آر سے لے کر پراسیکیوشن تک سب غلط ہوتا ہے ایک جج کیا کرے ؟کیا پارلیمنٹ کا کام نہیں کہ وہ قوانین کو اپڈیٹ کریں ؟

Post Tags:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*