کیاپولیس زینب کے قاتلوں کو بچارہی ہے؟

  • by Admin
  • جنوری 12, 2018
  • 0
  • 87  Views
  • 0 Shares

شنید ہے کہ زینب بیٹی کا قاتل گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہی اصل قاتل ہے یا اصل مجرموں کو بچانے کیلیے کسی مہرے کو بلی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔
2015 میں زینب شہید کا شہر قصور اس وقت خبروں میں آیا جب وہاں پر ایک جنسی سکینڈل سامنے آیا اس سکینڈل نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ کم و بیش دو سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود اس سکینڈل کے ذمہ داروں کا تعین ہو سکا سکااور نہ ہی وہ کیفر کردار تک پہنچے کیونکہ ذمہ داروں کا سرغنہ حکومتی جماعت سے تعلق رکھتا تھا۔
اس سکینڈل کی بازگشت کم ہوئی تو کچھ عرصہ پہلے اسی شہر قصور میں سفاکی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ کمسن بچیوں کااغواء ٗ زیادتی اور قتل۔ زینب سمیت اب تک بارہ بچیاں اس سفاکیت کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ زینب کے قتل سے پہلے تک راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔ گیارہ بچیوں کے ساتھ ہونے والے اس ظلم پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایکشن لیا اور نہ ہی عوامی نمائندوں اور سیاستدانوں نے۔ شاید اب بھی سفاکیت کے اس سلسلے کی کڑیاں اسی بااثر سیاسی شخصیت سے ملتی ہوں۔ اگر وہ نہیں تو اسی قماش اور قبیل کے کسی سانڈ تک کھرا جاتا ہے کیونکہ اس طرح کی وارداتوں پر پولیس کی خاموشی صرف دو وجوہات کی بنا پر ہوسکتی ہے۔ اول کہ اسے حصہ پہنچ رہا ہو اور دوم اگر مجرم اتنا طاقتور ہو کہ پیٹی اترنے کا خوف ہو۔
میرے خیال میں یہ قبیح اور لرزہ خیز وارداتیں کسی ایک شخص کا کام نہیں بلکہ کسی منظم گروہ کی کارستانی ہے۔ سزا نہ ہونا مجرموں کے حوصلے بلند کرتا ہے اور شاید قصور میں بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے۔ گر جنسی سکینڈل کے مجرم کیفر کردار تک پہنچ جاتے تو ننھی کلیوں کو مسلنے کا یہ مکروہ فعل شروع نہ ہوتا۔ عین ممکن ہے یہ بھی اسی پرانے گروہ کی کرتوت ہو یا شاید کوئی دوسرا گروہ لیکن اگر ایمانداری سے تفتیش کی جائے تو میرا وجدان کہتا ہے کہ ان وارداتوں کے ڈانڈے بھی کہیں نہ کہیں حکمران جماعت کے مقامی سیاستدان سے ہی جا ملیں گے کیونکہ وہ قصور میں جرم کی دنیا کا بےتاج بادشاہ ہے اور اس کی اجازت اور آشیرباد کے بغیر کوئی دوسرا مجرم اتنی گھناٶنی واردات اور پھرتسلسل کے ساتھ کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
معطل ڈی پی او نے سماء ٹی وی پر ندیم ملک کے پروگرام میں اس بات کاانکشاف کیا ہے کہ مقتول بچیوں کے لیبارٹری ٹیسٹ کے نتیجے میں ایک ہی شخص کے ڈی این اے کی تشخیص ہوئی ہے یعنی ان ساری وارداتوں کے پیچھے ایک ہی مجرم ہے۔ ہو سکتا ہے یہ بات ٹھیک ہو لیکن دل کو نہیں لگتی۔ میرے خیال میں یہ سارا ملبہ کسی ایک مہرے پر ڈال کر اصل مجرموں کو بچانے کا بیانیہ ہے۔ اگر واقعتا ان ساری وارداتوں میں ایک ہی شخص ملوث ہے تو وہ یقینا بہت بااختیار اور پیسے والا ہوگا وگرنہ اب تک پولیس والوں نے اسے پکڑ کر نہ صرف اس کے جرموں کی سزا دلوا دی ہوتی بلکہ ساری پرانی وارداتیں بھی اسی کے نام لگا کر ان لوگون کو کلین چٹ دلوادی ہوتی جن کی طرف قصور جنسی سکینڈل میں انگلیاں اٹھ رہی تھیں۔
ایک اور خدشہ بھی ہے جس کی طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ خاکم بدہن کہیں ان معصوم کلیوں کی ویڈیوز بھی نہ بنا لی گئی ہوں۔ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے لہذا اس کی چھان بین بھی سارے پہلوٶں کو مدنظر رکھ کر کرنی چاہیے۔ عوامی اشتعال اور احتجاج کے پیش نظر جلدی میں جرم کسی کے سر منڈھ کر ڈنگ ٹپانے سے اجتناب بہت ضروری ہے۔
زینب شہید کے ساتھ ہونے والا ظلم بھی شاید چھپا لیا جاتا لیکن اسے اتفاق کہیے یا مجرموں کی بدقسمتی کہ اس بار انہوں نے اپنی ہوس بجھانے کیلیے جس کلی کا انتخاب کیا اس کے خاندان کا تعلق منہاج القرآن سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب کی بار سوشل میڈیا پر زینب کیلیے انصاف کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کے بذاتِ خود قصور جا کر جنازہ پڑھانے اور انصاف کے مطالبے نے بھی اس مقدمے میں جان ڈال دی ہے۔ پنجاب حکومت خصوصا وزیر قانون کا اس حوالے سے کردار بہت ہی شرمناک ہے۔ وہ مظلوم خاندان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے نمک پاشی میں مصروف ہیں۔
زینب کی لاش ملنے کے بعد بھی پولیس ٗ انتظامیہ اور حکومت کا رویہ قابل مذمت ہے۔ نہتے مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلانا اور پولیس کی پھرتیاں اس بات کی چغلی کھا رہی ہیں کہ سارے معاملے میں کسی بااثر درندے کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اگر ریاست ٗ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعتا اس معاملے کی تہہ تک پہنچنا چاہتے ہیں اور وہ ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں پنجاب پولیس سے نہیں بلکہ اس معاملے کی چھان بین کسی دوسرے صوبے کے ایماندار اور نڈر پولیس افسر سے کروانا ہوگی جس پر کسی طرح کا سیاسی دباٶ نہ ہو اور وہ آزادی کے ساتھ تفتیش مکمل کرکے اس منظم سفاکیت میں ملوث درندوں کو منظرِ عام پر لاسکے۔ مزید برآں جسٹس باقر نجفی کی طرح اس افسر کے ہاتھ باندھنے سے بھی گریز کیا جائے تاکہ وہ نہ صرف مجرموں کو ننگا کرے بلکہ انہیں قرار واقعی سزا بھی دلوا سکے۔
یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے زینب کے بہیمانہ قتل کو ماڈل ٹاٶن سانحے کی قصاص تحریک سے جوڑ لیا ہے لہذا اب یہ معاملہ دبنے والا نہیں اور نہ ہی اوچھے ہتھکنڈوں سے اصل مجرموں کو بچایا جا سکے گا۔پولیس کو بھی چاہیے کہ اس معاملے میں ایمانداری سے مجرموں کو سامنے لا کر اپنے گناہوں کا کچھ کفارہ اداکر لیں۔

Post Tags:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*