ہم زینب کو بچا سکتے تھے

  • by Admin
  • جنوری 10, 2018
  • 0
  • 74  Views
  • 0 Shares

 

جبار چودھری

زینب کا والد اس وقت عمرے پر گیا ہوا تھا جب چھ دن پہلے ہمارے ایک دوست نے زینب کی تصویر بھجوائی. ساتھ ہی یہ کہا کہ اگر ممکن ہو تو یہ افسوسناک خبر چلادیں کہ یہ بچی اغوا ہوچکی ہے ،شاید کوئی اس کو بچالے.

آفس پہنچ کر میں نے اسائنمنٹ ڈیسک سے کہا کہ اس خبر کا پتہ کریں ،جواب ملا ہمارے نمائندے نے بھی یہ خبر فائل کردی ہے. نہ جانے کیوں اس فرشتہ چہرے کو دیکھ کر دل کو ایک دھڑکا سا لگ گیا تھا کہ یہ ننھی سی کلی درندگی کا شکار ہوجائے گی.

شام 6 بجے کے بلٹن میں 92 نیوز پر خبر چلائی… یہ خبر 24 نیوز پر ظہیر کاہلوں صاحب نے بھی چلادی ،ڈی پی او قصور کے علم میں لائی گئی اس نے تلاش کا وعدہ کرلیا لیکن وہ اس ضلع کا مالک ہوکر بھی صرف اس زینب کی لاش ہی تلاش کرپایا.

منگل کے روز خبر وہ منحوس خبر سامنے پڑی تھی لیکن اب کیا ہوسکتا تھا ،زینب اس درندگی کا شکار ہونے والی بارھویں بچی تھی جو قصور میں زیادتی کے بعد ماردی گئی.

کیا کرسکتے تھے والدین ،اہل محلہ اور رشتہ ؟احتجاج ؟سو احتجاج جاری ہے. اس صوبے کا وزیر اعلیٰ کیا کرے گا کسی پولیس والے کو معطل ؟وہ بھی ہوچکا لیکن اس عمرہ پر گئے والد کو کوئی زینب لاکر دے سکے گا ؟

میڈیا کو دی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سات سالہ زینب جس شخص کے ساتھ جاری ہے اگر وہ وہی درندہ ہے تو محسوس ہوتا ہے زینب اس کو جانتی ہے. زینب آرام سے اس کے ساتھ چلی جارہی ہے ،نہ مزاحمت کررہی ہے اور نہ ہی اجنبیت دکھا رہی ہے کیا کوئی رشتہ دار تو ملوث نہیں ؟ہوسکتا ہے کہ ایسے واقعات میں اکثر رشتہ دار نہیں تو گلی محلے کے جاننے والے ہی ملوث ہوتے ہیں.

سی سی ٹی وی کیمرے سے لی گئی تصویر

ابھی کل ہی کی تو بات ہے جب اوکاڑہ میں اسی عمر کی ایک بچی کو اس کے دو رشتے داروں نے بھنبھوڑ ڈالا تھا.

زینب کو بچایا جاسکتا تھا اگر ہم روز اس کی خبر لیتے تو…. زینب کو بچایا جاسکتا تھا اگر وہ پولیس سربراہ اغوا کے نوٹس کے بعد کچھ وقت زینب کےلیے نکال پاتا تو…

ہم والدین اپنی اپنی زینب کو بچا سکتے ہیں ان کے ساتھ رہ کر کام مشکل ہے لیکن زینب کی زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں ہے.

خدارا اپنی اپنی زینب کو گھر سے بار اور گھر کے اندر بھی اپنی نظروں میں رکھیں. کسی قریبی رشتہ دار کو بھی قربت میں مت جانیں دیں… اس پرفتن دور میں زینب کو بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے اپنے سامنے اپنے ساتھ رکھیں… نہ اسکول اکیلے بھیجیں نہ سپارہ پڑھنے کہ زینب گھر سے سپارہ پڑھنے نکلی تھی اور لاش واپس آئی.

Post Tags:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*