ٹرمپ کیا کرنے جارہا ہے؟؟؟

  • by Admin
  • جنوری 1, 2018
  • 0
  • 70  Views
  • 0 Shares

کوئی مانے نہ مانے جنوبی ایشیا ان دنو ں امریکی توجہ کا مرکز بن چکا ہے اوریہ بھی کہ جنوبی ایشیا امریکی چودھراہٹ اور عالمی مفادات کی بقا کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل خطہ ٹھہرا ہے۔بوکھلاہٹ میں امریکہ کا بھارت پر اندھا اعتماد ،پاکستان پر مسلسل الزامات اور اب منہ پھٹ ٹرمپ کا دھمکیوں پر اتر نا یہ سبب اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ امریکہ افغان جنگ میں آر یا پار چاہتا ہے کیونکہ دہائیوں پر محیط جنگ کومزیل طول دینا اب امریکہ کے مفاد میں نہیں رہا ۔ایسے میں امریکہ کیلئے دو ہی آپشنز ہیں مفاہمت کے تحت افغانستان پر اثر و رسوخ قائم رکھنا یا پھر امریکہ مخالف قوتوں کو کچل کر طاقت کے زور پر حکمرانی کرنا ۔اسے بد قسمتی کہیے یا جال بچھانے والے شکاریوں کی مہارت کہ امریکہ کیلئے دونوں راستے ہی بنددکھائی دے رہے ہیں۔ امریکہ اس دلدل سے نکلنے کیلئے پاکستان کی طرف مسلسل دیکھ رہا ہے ،کبھی کبھار ہڑبڑاہٹ یا بوکھلاہٹ میں لہجے میں تلخی بھی آجاتی ہے لیکن اس تلخ لہجے میں ساتھ مل کر چلنے کا پیغام بھی چھپا ہوتا ہے۔افغانستان میں ٹرمپ انتظامیہ ان دنوں بے بسی کی تصویر بن چکی ہے اور وہ پاکستان کا فوری ردعمل چاہتی ہے ۔امریکہ کا پاکستان سے اصرار ہے کہ یا تو طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے یا پھر انتہا پسندوں کے خاتمے کیلئے بڑے آپریشن میں شمولیت اختیار کی جائے، لیکن اس صورتحال میں اسلام آباد کسی جلدبازی کا شکار نہیں ہونا چارہا ۔اس کے علاوہ امریکہ خطے کے ممالک، بالخصوص پاکستان کے روس سے بڑھتے تعلقات بھی برداشت نہیں کرپارہا۔ایسی کونسی وجہ ہے جس نے دہائیوں سے دہشتگردی کیخلاف لڑتے اہم اتحادی پاکستان کو ایک دم سے امریکہ کیلئے اتنا کڑواکردیا ،یقینا امریکی مفادات کے علاوہ کچھ نہیں۔امریکی صدر اور نائب صدر کی مسلسل دھمکیاں بھارت کی جانب بڑھتا جھکاؤسب بتا رہا ہے مگر یہ بھی واضح ہے کہ امریکہ اور اس کا کم عقل صدر ایٹمی اثاثوں اور مضبوط فوج کی موجودگی میںکچھ نہیںکرنے جارہا کیونکہ ٹرمپ کواحساس ہے اسکی چھوٹی سی غلطی ایشا میں بڑی خفت اٹھانے کیلئے کافی ہوگی ۔ادھر امریکی سلامتی کے ادارے موقعہ غنیمت جانتے ہوئے ٹرمپ کو مخالفین کیخلاف استعمال کرکے دباؤ بڑھا ناچاہتے ہیں۔ کسی بھی چھیڑ چھاڑ کو ایک طرف رکھ کر امریکی انتظامیہ پاکستان کیلئے درپردہ مسائل پیداکرنے میں مصروف ہے۔گزشتہ کئی برس سے سر جوڑ کر بیٹھے امریکی ،بھارتی اور اسرائیلی خفیہ ادارے امریکی سرکار کو آگاہ کرچکے ہیں کہ پاکستان کا چین اور روس کی جانب بڑھتا ہر قدم خطے میں امریکہ کو کمزور کر رہا ہے۔یہ بورڈ اگرچہ تینوں ممالک کی ایجنسیز پر مشتمل تھا لیکن افغانستان سمیت متعدد ممالک کے خفیہ اداروں سے تعاون حاصل کرتا رہا ۔یار لوگوں کے مطابق چند ماہ قبل یہ بورڈ ایک رپورٹ ٹرمپ انتظامیہ کے سپرد کر چکا ہے جس کے تحت جنوبی ایشیا میں روس اور چین کا راستہ روکنا ہوگا۔ رپورٹ کا محور و مرکز پاکستان کو کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا۔رپورٹ کے تحت پاکستان کی بھر پور مخالفت اور مزاحمت کے باوجود امریکی ڈرون حملے پھر سے شروع ہوں گے اور ان حملوں میں افغان طالبان کے سرکردہ رہنماؤں  سمیت عالمی سطح پر مطلوب دہشتگردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کر کے معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے گا۔دوسری طرف پاک افغان سرحد کے قریب داعش کو مضبوط کرکے مغربی سرحد پرپاک فوج کی مصروفیات کو بڑھایا جائے گا ۔

 منصوبے کے تحت دہشتگردوں کے مختلف گروہوں کے ذریعے سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر حملے تیز کیے جائیں گے،زیادہ سے زیادہ سکیورٹی اہلکاروں کو ٹارگٹ کیا جائےگا، منصوبے میں سب سے بڑا کردار بھارتی مشیر قومی سلامتی اجیت دوول کررہا ہے جو مشرق وسطی ٰ سے داعش کے بھاگتے دہشتگردوں کو افغانستان کی راہ دکھانے میںانتہائی اہم کردار اداکررہا ہے ۔را کا یہ سابق سربراہ اس سلسلے میں داعش قیادت سے متعدد ملاقاتیں بھی کر چکا ہے ۔اس کے علاوہ ترقی یافتہ ممالک بالالخصوص یورپ میں منظم طریقے سے اشتہاری مہم چلائی جائے گی جس میں سوشل میڈیا سے بھی بھرپور استعفادہ کیا جائے گا ۔منصوبے کے اس حصے پر عمل درآمد اگرچہ کچھ ممالک میں جاری ہے مگر اب اس میں مزید تیزی اور وسعت لائی جائے گی اور اس کیلئے مطلوب رقم کا بڑا حصہ بھارت کو ادا کرنا ہوگا ۔ذہن سازی کی اس مہم میں مغربی ممالک کے عوام میں پاکستان مخالف جذبات ابھارے جائیں گے ۔ان میں سے اکثر منصوبے اگرچہ تاحال خواہشات اور کاغذات تک محدود ہیں لیکن اگرباقائدہ منصوبہ بندی کے تحت ردعمل نہ دیا گیا اور ڈنگ ٹپاؤپالیسی اختیار کی گئی تو بہت جلد عمل درآمد بھی شروع ہو جائے گا جس کے بعدیہ جنگ کاغذات سے اترکر حقیقت کی شکل اختیار کر لے گی ۔ اور ہاں ایک چیز ۔ جو بھی ہو ٹرمپ انتظامیہ ایک چیز پھر سے زیر غور ضرور لائے کہ وہ کس خطے میں تلخیاں بڑھانے جارہا ہے اور کس قوم کودشمن بنا رہا ہے۔

Post Tags:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*