بابا جی عزت کمانی پڑتی ہے

  • by Admin
  • دسمبر 16, 2017
  • 0
  • 191  Views
  • 0 Shares

جبار چودھری 

چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار نے ہفتہ کے روز لاہور میں خطابات سے پھر پور دن گزارا۔ ان خطابات میں انہوں وکلا کو سامنے بٹھا کر پاکستانی معاشرے کو درست سمت میں لے جانے کی بھر پور تبلیغ کی ۔ چیف صاحب جب اس خاتون کا قصہ وکلا اور ججز کوسامنے بٹھا کر سنارہے تھے جو  چھوٹی سی کٹیا کے حصول کےلیے عدالتوں کے چکر لگالگاکر اپنی آنکھوں کی بینائی کھو بیٹھی  تھی  تو میں سوچ رہا تھا کہ کتنا ہی اچھا ہوتا چیف صاحب مجھے یہ بتاتے کہ انہوں نے ان سب لوگوں کی آنکھیں نکال کر انہیں اندھا کردیا ہے جنہوں نے اس بوڑھی اماں کی بینائی چھیننے میں کسی بھی طرح حصہ ڈالا تھا۔ میں نے اس جج کوکان سے پکڑکر جیل بھجوادیا ہے۔ وہ وکیل جس کومعلوم تھا کہ پٹواری نے جعلی کاغذات بناکر اس خاتون کو اندھا کرنے میں کرداراداکیا ہے اس وکیل اورپٹواری کو عبرت کانشان بنادیا ہے تو مجھے ماننا پڑتا کہ چیف صاحب کو جو ذمہ داری اس ملک نے دی تھی وہ ذمہ داری وہ پوری کررہے ہیں ۔ لیکن ان کی تقریریں سن کر مجھے ایسا لگا جیسے رائیونڈ سے چلا لگانے کےلیے میری مسجد میں آنے والی جماعت  کا کوئی رکن تبلیغ کےلیے میرے گھر کے باہر آکر مجھے یہ کہہ رہا ہو کہ انصاف اللہ کی صفت ہے تم اگر ناانصافی کروگے تو اللہ تمہیں جہنم میں ڈال دے گا۔

چیف صاحب نے کہاکہ انہیں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے بتایاکہ ایک خاتون جج کے چیمبر میں گھس کر کسی نے اس کو گالیاں دیں انہیں ڈرایا دھمکایا ۔ کیا یہ رویہ درست ہے ؟ چیف جسٹس صاحب یہ باتیں مخالف فیصلہ آنے والے کسی وکیل کے رویے کے بارے میں بتارہے تھے کہ وکیل نے جج کو گالیاں دیں چیمبر میں جاکر ہراساں وغیرہ کیا لیکن چیف صاحب نے اس واقعہ کےلیے جو الفاظ چنے ان میں کسی بھی جگہ انہوں نے یہ کہنامناسب ہی خیال نہ کیا کہ کسی ‘‘وکیل’’ نے یہ کارنامہ کیا ہے بلکہ ان کے الفاظ تھے کہ ‘‘منصورصاحب مجھے بتارے تھے کہ لیڈی جج کے چیمبر میں گھس کر اسے گالیاں دی گئیں، اسے خوفزدہ کیا گیا ، کیا یہ رویہ درست ہے ؟ کاش میرے انصاف کا یہ وارث اپنی تقریر میں یہ کہتا کہ فلاں وکیل نے فیصلہ مخالف آنے پر فلاں جج صاحبہ کے چیمبر میں جاکر انہیں گالیاں دیں تو میں نے فوری کارروائی کرکے اس وکیل کا نہ صرف لائسنس اس سے چھین لیا بلکہ اسے فوری جیل بھجوادیا اور اس کیس کا مدعی میں ہوں جس نے اس کیس کولڑنا ہے وہ میرے سامنے آکر لڑے ۔۔۔لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ چیف صاحب تو وکیل کا لفظ بھی استعمال نہ کرسکے۔

چیف صاحب اپنی تقریروں میں بالکل ایسے ہی جذباتی تھے جیسے تبلیغ کرنے والے قبر کے عذاب بیان کرکے مجھے ڈراتے ہیں کہ نیکیاں کیا کرو. ورنہ اللہ کی پکڑ بہت مضبوط ہے  لیکن  چیف صاحب  آپ کو تبلیغ کا ٹاسک تو نہیں دیا میں نے۔ آپ کو تو پاکستان میں اللہ کی صفت انصاف کا وارث بنایا گیا ہے۔ آپ کو تبلیغ کی نہیں جرم کرنے والوں کو سزا کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

چیف صاحب جب یہ کہہ رہے تھے کہ عدلیہ کسی دباؤ میں کام کرتی ہے نہ کوئی دباؤ ڈالنے والا پیدا ہی ہوا ہےتو مجھے پرویز مشرف یاد آرہا تھا جس نے اس ملک کاآئین توڑا، اپنے حلف کوپامال کرکے ایک حکومت کو زبردستی گھر بھجوایا اور دس سال تک اپنے حساب سے اس نظام کو توڑتا اور مروڑتا رہا ۔ جب اس کی پکڑ کی باری آئی تو سندھ ہائی کورٹ نے اس کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دیدی اور پھر اسی چیف کی عدالت نے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ اگر عدلیہ پر کوئی دباؤ ڈالنے والاپیدا ہی نہیں ہوا تو کم از کم اپنے الفاظ کا پاس رکھنے کےلیے مشرف کو ہی اب تک واپس لاکر ٹرائل کرچکے ہوتے۔ اسی پر جیو نیوز کے کنٹرولر اور سینئر صحافی جناب مبشرعلی  زیدی صاحب نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا کہ ‘‘آج کوئی صاحب کہہ رہے ہیں کہ عدلیہ پر دباؤ ڈالنے والا پیدا نہیں ہوا۔ کوئی انھیں مشرف صاحب کی تصویر دکھائے جنھیں عدلیہ نے تین سال تک پارلیمان کے دو تہائی ارکان جتنا طاقت ور تسلیم کرکے آئین میں ترمیم کرنے کا حق دے دیا تھا۔

اگر واقعی کوئی دباؤ نہیں عدلیہ پر تو چیف صاحب اپنے سابق چیف افتخار محمد چودھری کو بلوا کر پوچھیں اس نے اپنے دورچیف جسٹس میں جس شخص کے بیٹے کو اپنی بیٹی کے لیے منتخب کیا وہ ایڈن ہاؤسنگ گروپ کا مالک ڈاکٹر امجد اور موصوف کا داماد لاہور میں کس کس زمین پر قبضے میں ملوث ہے اور وہ جو ہزاروں متاثرین اپنے پلاٹوں کے پیسے اداکرکے زمین کے ٹکڑوں کے منتظر ہیں  ان سے اس اعلیٰ عدلیہ کے بابے نے کیوں رشتہ جوڑ رکھا ہے ۔ چیف صاحب آپ کو اگر پہلے نہیں پتہ تھا تو اب جان لیں کہ  افتخار محمد چودھری کاسمدھی ڈاکٹر امجد ہزاروں لوگوں کے گھروں کی چھت میں رکاوٹ بنا بیٹھا ہے ۔میں کیسے مان لوں جناب کہ دباؤ ڈالنے والا پیدا ہی نہیں ہوا؟ کیا آپ ان ہزاروں افراد کے بھی اندھے ہونے کا انتظار کررہے ہیں تاکہ اگلے خطاب میں یہ قصہ سنا سکیں ؟

جناب چیف صاحب یہ بھی کہتے سنے گئے کہ عدلیہ آپ کا وہ بابا ہے جو لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے لیکن گاؤں میں پھر بھی لوگ اسے گالیاں نہیں عزت دیتے ہیں ۔ آپ بھی ایسا ہی کیا کرو اگر آپ کے خلاف فیصلہ آجائے تو گالیاں نہ دیا کرو بلکہ اس بابے کی عزت کیا کرو۔۔چیف صاحب آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ عزت مانگی نہیں جاتی عزت کماناپڑتی ہے ۔۔عزت کمانا پڑتی ہے بابا جی !!

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*