حکومت پر دباؤ اورمسلم لیگ ن کی پوزیشن

  • by Admin
  • دسمبر 14, 2017
  • 0
  • 65  Views
  • 0 Shares

 

خلیل احمدمغل۔۔۔۔۔ حرب قلم
اب شہباز شریف کو برداشت نہیں کریں گے،اس کے لئے جدوجہد کریں گے،لڑیں گے اور سڑکوں پر نکلیں گے،ہم موجودہ حکومت کے خلاف جدوجہد کرکے آئین کو نہیں توڑ رہے بلکہ آئین کی بقا کی بات کررہے ہیں،عبوری حکومت سے پہلے انہیں ہٹادیں گے،یہ تو مغل بادشاہ ہیں،مغل بادشاہت جمہوریت نہیں ہے۔یہ باتیں سابق صدر آصف علی زرداری نے کیں ،جب وہ 7دسمبرکو منہاج القرآن سیکرٹریٹ لاہور میں طاہرالقادری سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ یہ عام فہم اورسادہ جملے ہیں لیکن سیاسی الجھنوں کو کہیں سلجھانے اور کہیں مزید الجھانے کا اشارہ بھی ہیں۔ یہ اشارہ آئندہ دنوں میں مکافات عمل کی جھلک نمایاں کرتا ہے ۔ مکافات عمل اُس بڑھک کا ہوسکتا ہے جو شہبازشریف نے یہ کہتے ہوئے لگائی تھی کہ آصف علی زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹوں گا۔اگر سیاست میں بڑھک ہٹ ہوئی تو اپنی فلم نگری میں یہی بڑھکیں سپرہٹ ہوئی ہیں۔فلم انڈسٹری میں ویسے تو مظہرشاہ کی "اوئے میں ٹبر کھا جاواں پر ڈکار نہ ماراں” الیاس کشمیری کی "میں دشمن دا بی مکا دیواں گا” اور مصطفی قریشی کی "نواں آیاں ایں سوہنیا”جیسی بڑھکیں مشہور ہیں۔ ایسے ہی سیاسی بڑھکوں میں شہبازشریف کی سڑکوں پر گھسیٹوں گا بڑھک ہرکسی کو یاد ہے۔جس کے جواب میں آصف زرداری کی بڑھکیں شروع ہوگئی ہیں۔اب سیاسی منظر میں تجسس اور ایکشن شروع ہونے کی امید رکھیں ۔مسلم لیگ کی طرف سے آصف زرداری کو جواب شکوہ دیا جارہا ہے کہ ہم نے ہاتھ پکڑ کر آپ کی حکومت کی مدت پوری کرائی تھی لیکن ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہم نے جس روایت کی بنیاد رکھی ہے آگے چل کر اس سے کھلواڑ کیا جائے گا۔خواجہ آصف ،خواجہ سعد رفیق اور طلال چودھری کہہ رہے ہیں کہ اسمبلیوں سے استعفے دیئے گئے تو یہ بڑا مایوس کن اقدام ہوگا،حالات سے فائدہ اٹھانا پڑا تو اپنے سیاسی فائدے کیلئے اسمبلیاں چند ماہ پہلے تحلیل کرسکتے ہیں،اپوزیشن کی طرف سے استعفے ایسا ہی ہے کہ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے۔مسلم لیگ ن نےطاہرالقادری سے آصف علی زرداری اورعمران خان کے روابط کو زیرو جمع زیرو قرار دیا ہے۔ بہرحال پیپلزپارٹی،پی ٹی آئی اورپاکستان عوامی تحریک قبل ازوقت انتخابات کیلئے اکٹھے ہوگئے ہیں،حکومت کے لئے ان سب کو روکے رکھنا مشکل ہوگا۔پانچ سال قبل دہشت گردی اورلوڈشیڈنگ بڑے مسائل تھے لیکن اب معیشت اور بےروزگاری بڑے مسائل ہیں۔آج کل حکمران جماعت کے لئے عوامی منصوبوں کی تکمیل اور ان کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم ہونا نیک شگون ہے۔پہلے لوڈشیدنگ کے خاتمے کااعلان ہوا،اب سپریم کورٹ نے لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔جس سے مسلم لیگ ن کو فائدہ ہوگا۔تاہم سوال یہ ہے کہ آئندہ انتخابات کے کتنے امکانات ہیں۔اس معاملہ میں خوش آئند بات حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان نئی حلقہ بندیوں کے بل کی سینٹ سے منظوری پر بیک ڈور ڈپلومیسی کی کامیابی ہے۔جس کے بعد پیپلزپارٹی حکومت سے تعاون پر آمادہ ہوگئی ہے۔اور بروقت انتخابات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔سینٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے تعاون کی صورت میں مردم شماری کے عبوری نتائج پر نشستوں میں اضافہ کئے بغیر نئی حلقہ بندیاں کی جائیں گی۔یوں انتخابات میں ممکنہ تاخیراور قومی حکومت کے قیام کی چہ میگوئیاں کم ہونے کی توقع ہے۔ملک میں تین سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف انتخابات میں جانا چاہتی ہیں جبکہ باقی جماعتوں میں سے اکثریت ایسا سیٹ اپ چاہتی ہیں جس کی وجہ سے وہ جماعتیں الیکشن میں جائے بغیر حکومت میں شامل ہوجائیں۔
آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کوئٹہ میں وائس آف بلوچستان کے زیراہتمام انٹرنیشنل سیمینار سے خطاب میں اہم ملکی مسائل اجاگر کردیئے ہیں۔انہوں نے کہا ہےحکومت کرنا فوج کا کام نہیں،فوج اورسیاستدانوں سب نے غلطیں کیں،جمہوریت پسند ہوں اور ووٹ کی طاقت اہم ہے،پاکستان صرف جمہوری عمل کے ذریعے ہی ترقی کرسکتا ہےلیکن جمہوریت کا ہرگزیہ مطلب نہیں کہ ہم عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے بعد ان کی خدمت کرنے کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دیں،پاکستان کی ترقی کیلئے میرٹ کی بالادستی،تعلیم کا فروغ اور انتظامی امور میں بہتری کی ضرورت ہے،ہمیں اپنی ترجیحات کو طویل المدت کرنے کی ضرورت ہے،ملک میں40 برسوں کے دوران سکولوں سے زیادہ مدارس بنے،جہاں دینی تعلیم دی جارہی ہے تاہم اب اس پرنظرثانی کی ضرورت ہے،مدارس کی تعلیم ناکافی ہے کیونکہ یہاں جدید دور کے لحاظ سے طلباء کی تربیت نہیں ہوپارہی ،مدارس کیخلاف نہیں ہوں لیکن ہم مدارس کا اصل مقصد بھول چکے ہیں،ایک مکتبہ فکر کے مدارس میں25لاکھ طلباء زیرتعلیم ہیں،وہ کیا بنیں گے،مدارس سے نکلنے والے کیا مولوی بنیں گے یا دہشت گرد؟اتنی مساجد نہیں جتنے مدارس ہیں اور یہ بھی ممکن نہیں کہ مدارس کےاتنی بڑی تعداد میں طلباء کو روزگار کی فراہمی کیلئے مساجد تعمیر کی جائیں،ان طلباء کو جدید تعلیم دینے کی ضرورت ہے،ناقص تعلیم خصوصی طور پر مدارس قوم کو پیچھے لےجارہے ہیں۔آرمی چیف کے اس خطاب میں جمہوریت کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کرنے والوں سمیت کئی حلقوں کے لئے سخت پیغام ہے ،اس کے ساتھ تعلیم،میرٹ اور گڈ گورننس کے مشورے بھی شامل ہیں۔جس سے مستقبل کے حالات کی منظرکشی کی جاسکتی ہے۔ مستقبل میں سیاست کی اجازت تو ہوگی مگر لوٹ مار کی اجازت نہیں ہوگی،ایسے ہی مدارس تو ہوں گے مگر وہاں انتہا پسندی کا رجحان قبول نہیں کیا جائے گا۔آئندہ دنوں میں کسی سیاسی اتحاد کا امکان نظر نہیں آرہا،صرف حکومت پر دباو بڑھانے کے لئے چند جماعتیں مل کر چل سکتی ہیں مگر وہ انتخابات میں ایک پلیٹ فارم پر نہیں ہوں گی،جس سے مسلم لیگ ن کی پوزیشن مضبوط رہے گی۔
mughal_khalil@ymail.com

Post Tags:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*