طاہرالقادری کی شرط

  • by Admin
  • دسمبر 10, 2017
  • 0
  • 312  Views
  • 0 Shares

جبار چودھری

ڈاکٹر طاہرالقادری کے مرکز منہاج القرآن پر سیاسی قائدین کی آمد کوئی نئی بات نہیں ، لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں واقع تحریک منہاج القرآن کا مرکزی سیکریٹریٹ ماضی میں بھی  ملک کے بڑے سیاستدانوں کی میزبانی کرچکا ہے اور طاہرالقادری اور ادارہ منہا ج القرآن کا دسترخوان بھی کم کشادہ نہیں ہے۔

1998میں جب ڈاکٹر طاہرالقادری نے پارلیمانی سیاست نہ کرنے کی قسم کفارہ ادا کرکے توڑ ڈالی تھی تو ملک میں نوازشریف کی حکومت تھی ۔پیپلزپارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو اپوزیشن لیڈر تھیں  اور نوابزادہ نصراللہ خان جیسے صلح جو سیاستدان بھی نواز مخالف تھے ۔ نوازشریف کے پاس اسمبلی میں دو تہائی اکثریت تھی ۔ اختیارات کامرکز وزیراعظم کی ذات بن رہی تھی ۔ اپوزیشن نوازشریف کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنا چاہتی تھی لیکن احتجاج کےلیے بحرحال لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اس وقت نہ پیپلزپارٹی کے پاس تھے اور نوابزادہ نصراللہ کے پاس تو کبھی بھی نہ تھے  اور عمران خان بھی اپنی پارٹی کے اکیلے ہی رکن تھے ۔ بے نظیر نے نوابزادہ سے مشورہ کیا تو نوابزادہ نصراللہ خان کی نظر ڈاکٹر طاہرالقادری پر جا پڑی جن کے پاس کارکن بھی تھے اور ڈاکٹر صاحب میں اقتدار کی چاہ بھی ، لیکن ڈاکٹر طاہرالقادری 1990کے الیکشن میں دھاندلی کے الزام پر پارلیمانی سیاست میں کبھی واپس نہ آنے کی قسم کھا بیٹھے تھے۔بے نظیر اور نوابزادہ نصراللہ خان صاحب نے ڈاکٹر طاہرالقادری کو واپس سیاست میں کھینچ لیا ۔ ڈاکٹر صاحب نے اتحاد میں شامل ہونے کے لیے اس اتحاد کی سربراہی کی شرط رکھ دی  جو بے نظیر نے بھی قبول کرلی ، یو ں منہاج القرآن کا مرکز بھاری بھرکم سیاسی شخصیات سے آباد ہوگیا۔ پاکستان عوامی اتحاد کے نام سے بننے والے اس نوازمخالف اتحاد کے اجلاس ماڈل ٹاؤن میں شروع ہوگئے۔اپوزیشن نے احتجاجی تحریک کا اعلان کیا اور ملک میں جلسوں کے شیڈول کا اعلان کردیا۔ پہلا جلسہ گوجرانوالہ میں ہوا۔ جلسے کے لیے پرجوش کارکن منہاج القرآن اور ڈاکٹر صاحب کی ذمہ داری تھی ۔ سال جلسوں میں گزرگیا لیکن نوازشریف کی حکومت پر کوئی اثر نہ پڑا۔ سال گزرا تو بے نظیر نے اتحاد کی شرائط کے مطابق نوابزادہ صاحب سے اس کی سربراہی مانگ لی ۔

اس اتحاد کی سربراہی سالانہ بنیادوں پر اتحادیوں میں تبدیل ہونے کا فارمولا طے شدہ تھا اس لیے نوابزادہ نصراللہ صاحب نے ڈاکٹر طاہرالقادری کو اتحاد کی سربراہی چھوڑ کر بے نظیر بھٹو کو سربراہ بنانے کی بات کی تو ڈاکٹر صاحب ابھی مزید اس عہدے پر رہنے کے خواہشمند نظر آئے ۔ معاملات بگڑنے لگے تو نوابزادہ صاحب نے اتحاد کی سربراہی اپنے پاس رکھ لی ۔ ڈاکٹر صاحب اس اتحاد کے چیئرمین نہ رہے تو عوامی تحریک کی دلچسپی اس اتحاد سے ختم ہوگئی ۔ مہناج القرآن کا مرکز سیاسی دعوتوں سے ویران ہوتا چلاگیا۔ بے نظیر پارٹی مخدوم امین فہیم کے پاس چھوڑ کر جلا وطن ہوگئیں  اور ڈاکٹر طاہرالقادری ایک بار پھر سیاسی طورپر غیر فعال ہوگئے ۔ نوازشریف کی حکومت پرویز مشرف کے ہاتھوں  ختم ہوگئی تو ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسی شام لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس میں پریز مشرف  کو خوش آمدید کہا تو نوابزادہ نصراللہ خان نے اس عوامی اتحاد کو اتحاد برائے بحالی جمہوریت ( اے آر ڈی) میں تبدیل کرکے مشرف کے مارشل لاء کیخلاف جدوجہد کا آغاز کردیا ۔

ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان اس اتحاد سے نکل کر پریز مشرف کی گاری میں سوار ہوگئے اورمشرف کے ریفرنڈم کا ایک پولنگ اسٹیشن اسی مرکز منہاج القرآن میں بھی بنایا گیا یہاں سے پرویز مشرف بلا مقابلہ جیت گئے تھے۔طاہرالقادری اور عمران  خان دونوں ہی 2002کے الیکشن میں رکن قومی اسمبلی بنے، حکومت بنانے کے لیے جمالی کو ووٹ دے کر وزیراعظم بنایا اور ڈاکٹر صاحب 2004میں اسمبلی سے استعفی ٰ دے کر پھر سیاست سے تائب ہوکر کینیڈا چلے گئے جبکہ عمران خان اسمبلی میں موجود رہے  لیکن انہوں نے 2008کے انتخابات میں جماعت اسلامی کے ساتھ بائیکاٹ کیا اور 2013کے الیکشن میں حصہ لیا اور اب اگلی باری کے انتظار میں ہیں اور اپناسا را زور مارچ سے پہلے پہلے الیکشن کروانے  پر دیے بیٹھے ملک میں جلسے کررہے ہیں ۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن بلا شک و شبہ پنجاب حکومت کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے ، انسانی جانیں ضائع نہیں ہونا چاہئیں تھیں ۔ یہ سانحہ   ڈاکٹر طاہرالقادری  کو ایک بار پھر اپوزیشن سیاست کے مرکز پر لے آیا ہے ۔ ڈاکٹر طاہرالقادری اس سے پہلے دو دھرنے اسلام آباد میں دے چکے ہیں پہلا دھرنا جنوری 2013میں تھا جب مرکز میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور اسی حکومت نے طاہرالقادری  سے الیکشن اصلاحات کامعاہدہ کیا جس پر کبھی عمل نہ ہوا۔ دوسری مرتبہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد اگست 2014میں طویل دھرنا دیا جس کے نتیجے میں سانحہ کی ایف آئی آر نوازشریف اور شہبازشریف سمیت وزرا کیخلاف درج کی گئی ۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ آنے کے بعد ایک بار پھر مرکز منہاج القرآن آباد ہوچلاہے ۔ پیپلزپارٹی کے آصف زرداری  سب سے پہلے پہنچے اور ساتھ دینے کا یقین دلایا، عمران خان فون کرچکے اور جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کو بھجواچکے، کراچی سے مصطفی کمال بھی چکر لگاگئے، شیخ رشید کوآج موقع مل پایا اور آخر پر چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الہٰی بھی حاضری دے چکے ہیں ۔ اس موقع پر طاہرالقادری کے درپر آنے والوں کااپنا اپنا یجنڈا اور مقصد ہے اور طاہرالقادری کا بھی ایک اپنا ایجنڈا۔

آصف زرداری کےلیے پیپلزپارٹی کو دھرنے وغیرہ میں لے کر جانا بہت مشکل ہے  لیکن انہیں اپنے اینٹ سے اینٹ بجانے والے بیان کا کفارہ ادا کرنا ہے اور الیکشن میں کھلے میدان کی بھی یہ کفارہ شرط ہے اس لیے وہ نوازشریف کے خلاف بولنے والوں کے ساتھ بولنے پر مجبور ہیں  اور الیکشن میں سندھ بھی انہوں نے بچانا ہے۔

تحریک انصاف اور عمران خان کا ایجنڈا وقت سے پہلے الیکشن کرواناہے  اور اس حکومت کو ہرحال میں سینیٹ الیکشن تک پہنچنے سے روکنا ہےتاکہ ن لیگ  سینیٹ میں اکثریت حاصل نہ کرسکے ۔ وہ اس مقصد کے لیے طاہرالقادری کو احتجاج پر قائل کررہے ہیں تاکہ پریشر بڑھے اور حکومت اسمبلیاں تحلیل کردے ۔ شیخ رشید کا بھی یہی مقصد ہے۔اس کےلیے پی ٹی آئی والے ڈاکٹر طاہرالقادری کا احتجاج اسپانسر کرنے کے لیے بھی تیارہیں ۔

مصطفیٰ کمال کبھی طاہر القادری سے  ملنے بھاگے چلے نہ آتے اگر مسلم لیگ ن کچھ دن پہلے ایم کیوایم کی حمایت اور پی ایس پی کو اسٹیبلشمنٹ کی نمائندہ جماعت نہ کہتی۔ ن لیگ نے پی ایس پی اور ایم کیوایم میں سے ایم کیوایم کو چنا ہے تو مصطفیٰ کمال کی مخالف انٹری بحرحال بنتی تھی ان کے آنے کی بس اتنی سی وجہ ہے۔

چودھری برادران کے آنے کی وجہ نہ بھی ہو تو انہوں نے آنا ہی تھا کہ ان کے پاس اب لٹانے کے لیے بھی کچھ نہیں بچا۔ ایک وقت تھا جب2002میں عوامی تحریک کے نمائندے الیکشن میں  سیٹ ایڈجسٹمنٹ   مانگنے چودھری صاحبان کے درپر جاتے تھے اور وہ لفٹ نہیں کرواتے تھے اور اب ایک وقت ہے کہ وہی چودھری صاحبان طاہرالقادری کے در پر بھٹکے ہوئے پھرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب جماعتیں طاہرلقادری کے ساتھ ہیں انہیں احتجاج اور دھرنے پر نہ صرف اکسا رہی ہیں بلکہ احتجاج کی صورت میں دام درم سخنے ساتھ دینے کی یقین دہانیاں بھی ہاتھ پر لیے پھرتی ہیں تو پھر طاہر القادری کیوں احتجاج کی تاریخ نہیں دیتے؟ اس سوال کا جواب سادہ ہے کہ طاہرالقادری کی ایک ہی شرط ہے کہ اس بار اکیلے اکیلے نہیں!۔۔۔۔ آئیں پھر سب ایک ساتھ مل کر ایک ہی کنٹینر پر سوار ہوتے ہیں  اور اس سے جو بھی حاصل ہوگا وہ پھر برابر تقسیم ہوگا ۔ یہ شرط جب ، جس وقت عمران خان خاص طورپر اور زرداری صاحب کو قبول ہوگئی طاہرالقادری کا کنٹینر باہر آجائے گا۔

Post Tags:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*