مسلم لیگ ن اور حالات کے تقاضے

  • by Admin
  • دسمبر 7, 2017
  • 0
  • 58  Views
  • 0 Shares

خلیل احمد مغل

قبل از وقت انتخابات اور عبوری حکومت کی قیاس آرائیوں میں ہر روز شدت آنے لگی ہے ۔مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں فاصلے بڑھ رہے ہیں۔پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں وہ دو مرتبہ نوازشریف کی جمہوریت بچاچکے ہیں اب یہ غلطی نہیں کریں گے۔آصف علی زرداری نے واضح کردیا ہے کہ ہماری کوشش ہوگی کہ ان سے لڑیں،ہم اپنی جمہوریت لائیں گے،حکومت کا مدت پوری کرنا ضروری نہیں،ہماری کوشش ہوگی کہ عبوری حکومت سے پہلے یہ ہار مان جائیں اور چلے جائیں،اب جو ہوگا ووٹ کے ذریعے ہوگا۔اس سے قبل تحریک انصاف فوری الیکشن کے مطالبہ پر تنہائی کا شکار تھی ۔اب پیپلزپارٹی بھی تحریک انصاف کی ڈگر پر چل نکلی ہے ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی آئندہ سال اگست میں عام انتخابات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جس سے قبل مارچ میں سینیٹ کے الیکشن ہونا ہیں۔مردم شماری کے نتائج پر قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد کے دوبارہ تعین اور نئی حلقہ بندیوں میں تاخیر عام انتخابات کے التواء کا سبب بن رہے ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے بل منظوری کا منتظر ہے اور اس معاملہ میں پیپلزپارٹی کے گلےشکوےتاخیری حربہ ہے۔تاہم ان عوامل کا سینٹ الیکشن سے کوئی تعلق نہیں،سینٹ الیکشن بروقت ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
پیپلزپارٹی کی طرف سے 24ویں آئینی ترمیم کے حوالے سےقومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں بہتری کی توقع ظاہر کی جارہی ہے ۔پیپلزپارٹی نے اس کے ساتھ ہی نوازشریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پہلے مسلم لیگ ن کے اندرمعاملات بہتر کریں پھر پیپلزپارٹی کی قیادت سے ملنے کا سوچیں۔دوسری طرف مسلم لیگ ن کو شکایت ہے کہ پیپلزپارٹی کے24ویں آئینی ترمیم پر جتنے تحفظات تھے ان کو دور کرنے کے باوجود پیپلزپارٹی تعاون نہیں کررہی،جس سے عام انتخابات کے بروقت انعقاد کیلئے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔
ملکی سیاست میں مذہبی جماعتوں کا کردار بھی بڑھتا جارہا ہے۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے لئے کوششوں کے ساتھ نئی جماعتیں بھی سامنے آرہی ہیں ۔ یہ خوش آئند بات ہے لیکن ملک عسکری لشکر پروان چڑھنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔مگر ریاست نے ہی ایسے کام کئے ہیں کہ انتہاء پسندی پروان چڑھی،ریاست کی حکمرانی ختم ہونے سے ہی وار لارڈز جنم لیتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل256میں لکھا ہے کہ عسکری لشکر نہیں بن سکتے۔اس آرٹیکل کی خلاف ورزی نقصان دہ ہوگی جبکہ مسلک کی بنیاد پر سیاست کے اثرات بھگتنے پڑیں گے۔ ملک میں سیاسی اور مذہبی سطح پر نفرتیں بڑھ رہی ہیں ۔ اس فضاء میں عام انتخابات کا انعقاد مشکل اور قومی حکومت کا قیام ممکن ہورہا ہے۔
مسلم لیگ ن مفاہمت اورمزاحمت میں سے کسی ایک پالیسی کا انتخاب کرنے کے لئے آج بھی منقسم ہے ۔نوازشریف اور مریم نوازسمیت اُن کے چند رفقاء عوام رابطہ مہم کے نام پر مزاحمت کے موڈ میں ہیں۔دوسری طرف اس پالیسی سے نالاں ہونے والے دو،چار نہیں بلکہ بہت بڑی تعداد میں ہیں ۔میرظفراللہ جمالی اور رضا حیات ہراج تو ابتداء ہیں۔مسلم لیگ ن کے 4دسمبر کو اسلام آباد میں مجلس عاملہ کے اجلاس میں سابق وزیراعظم میرظفراللہ جمالی اور رکن قومی اسمبلی رضا حیات ہراج کیخلاف پارٹی آئین کے تحت انضباطی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا اور ساتھ ہی کہا گیا ہےکہ مسلم لیگ ن تصادم کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی اور نہ ہی وہ کسی ادارے کے ساتھ تصادم چاہتی ہے بلکہ نواز شریف اپنے دفاع کی جدوجہد کررہے ہیں۔پارٹی فیصلہ کے جواب میں سابق وزیرمملکت اور مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی رضا حیات ہراج نے تلخ باتیں کی ہیں۔وہ کہتے ہیں اس وقت تک پارٹی نہیں چھوڑوں گا جب تک مجھے نکال نہیں دیا جاتا،میں موجودہ حالات میں بھی نوازشریف اور پارٹی کے ساتھ ہوں،میں نے میرظفراللہ جمالی کی طرح قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر پارٹی کے خلاف ووٹ نہیں دیا بلکہ گھر بیٹھ کر خاموش رہا ،اب خاموشی کی سزا میں شوکازنوٹس دیا جارہا ہے،میں اداروں کی تضحیک برداشت نہیں کرسکتا،ہم سیاست ضرور کریں گے لیکن کسی ادارے کو بُرا کہیں گے نہ اداروں کو نشانہ بنائیں گے،مجھے شوکازنوٹس ایک نہیں سو بار دیں،میں اس کا جواب دوں گا اور جواب بھی ایسا دوں گا کہ مجھے کوئی بھی اس کا مزید جواب نہیں دے گا۔رضا حیات ہراج نے سوال اٹھایا ہے کہ اسحاق ڈار نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا اور دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کیا،اسحاق ڈار کو شوکازنوٹس کیوں نہیں دیا جاتا،کیا اسحاق ڈار کو نوٹس دینے سے یہ لوگ ڈرتے ہیں،مجھے شوکازنوٹس دینے سے پہلے پارٹی کو چاہیے تھا کہ وزیرمملکت انوشہ رحمان کو بھی نوٹس دیا جاتا ،جنہوں نے غیرملکی سفیروں کو ایک متنازع خط لکھا،نیب کو مطلوب لوگ آج بھی وفاقی وزیر ہیں۔رضا حیات ہراج کے جواب سےچندحقائق واضح ہورہے ہیں۔اور وہ یہ ہیں کہ ایک طرف مسلم لیگ ن تصادم کی سیاست مسترد کرنے کا اعادہ کررہی ہے اور دوسری طرف مفاہمت پسند رکن قومی اسمبلی کو شوکازنوٹس کررہی ہے،یہاں قول وفعل میں تضاد سامنے آیا ہے۔ رضا حیات ہراج اپنے دفاع میں کئی محاذ کھول سکتے ہیں،جس سے حکمران جماعت کو لینے کی بجائے دینے پڑسکتے ہیں۔اسحاق ڈار اور انوشہ رحمان سمیت نیب زدہ وزراء بھی حکمران جماعت کے لئے آئندہ انتخابات سے قبل مزید آزمائشیں پیدا کریں گے ۔ایسے وقت میں پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کی ہاں میں ہاں ملانا چھوڑ دی،مولانا فضل الرحمان متحدہ مجلس عمل بحال کرکے اُدھر کا رخ کرنے کی تیاری میں ہیں۔ آئندہ دنوں میں مسلم لیگ ن کی تنہائی میں اضافہ ہوگا، سانحہ ماڈل ٹاون پر نجفی انکوائری رپورٹ کا معاملہ ملکی سیاست پرغالب رہےگا ،اس دوران نوازشریف کی وطن واپسی کے حوالے سے قیاس آرائیاں بڑھیں گی تاہم قوی امکان یہی ہے کہ وہ وطن واپس آکر مقدمات کا سامنا کریں گے ۔نوازشریف اورمسلم لیگ ن کو حالات کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے ۔
mughal_khalil@ymail.com

Post Tags:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*