خادم رضوی اورآصف جلالی میں لڑائی

  • by Admin
  • نومبر 29, 2017
  • 0
  • 249  Views
  • 0 Shares

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک لبیک کے دونوں دھڑوں میں اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آگئے جب دونوں دھڑوں کے سربراہ خادم رضوی اور ڈاکٹر آصف اشرف جلالی  اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آر میں لڑ پڑے ۔ دونوں نے اپنی اپنی جماعت کو اصل تحریک لبیک کہنے پر اصرار کیا ۔ خادم رضوی نے کہا کہ لاہور میں جاری آصف اشرف جلالی کے دھرنے سے ان کاکوئی تعلق نہیں ہے ۔اشرف جلالی نے کہا کہ خادم رضوی نے حکومت سے ڈیل کی اور رانا ثناءاللہ کے استعفے کی بات نہیں کی اور ان کا استعفی ٰ لیے بغیر اسلام آباد سے دھرنا ختم کرکے واپس آگئے۔اس پر خادم رضوی نے کہا کہ جلالی صاحب  نے دس دن کا دھرنا دیا وہ اس وقت کیوں بغیر رانا ثناءاللہ کااستعفیٰ لیے بغیر واپس آگئے تھے ۔ اگر انہوں نے رانا ثناءاللہ کا استعفی  ہی لینا تھا تو دھرنا ختم کیوں کیا اور اب جبکہ ہمیں اللہ نے کامیابی دی ہے تو موقع پرست یہاں اپنا دھرنا دے کر بیٹھ گئے ہیں۔ آصف اشرف نے الزام لگایا کہ خادم رضوی شہدا کا خون بیچ کر واپس آگئے انہوں نے تو یہ بھی نہیں  پوچھا کہ شہیدوں کی تعداد کتنی ہے ۔یہ بتائیں کہ کتنے لوگ شہید ہوئے ہیں۔ پروگرام جاری تھا کہ میزبان نے خادم رضوی سے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ ان کی ٹیم کو دھمکیاں دے رہے ہیں لہٰذا ان کو روکاجائے ۔ خادم رضوی نے کہا کہ وہ انہیں روکتے ہیں ۔ اس کے بعد خادم رضوی نے حامیوں نے ان کا کیمرہ بند کرادیا اور یوں ان کا رابطہ ٹوٹ گیا تاہم آصف اشرف جلالی پروگرام میں موجود رہے ۔

Post Tags:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*