دھرنا ختم نہیں ہوا۔۔۔اسٹیج اور کرداربدلے ہیں

  • by Admin
  • نومبر 27, 2017
  • 0
  • 150  Views
  • 0 Shares

تحریک لبیک یارسول اللہ دودھڑوں میں تقسیم ہے ایک دھڑے کی قیادے خادم رضوی کرتے ہیں جبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت ڈاکٹر آصف اشرف جلالی کے پاس ہے۔ ختم نبوت کے معاملے پر پہلے ایک ہفتے پر محیط دھرنا  کی قیادت آصف اشرف آصف جلالی نے کی اور حکومت سے کچھ لے دے کر واپس آگئے تھے اس کے بعد تحریک لبیک کے دوسرے گروپ نے دھرنا دیا ۔ جس کی قیادت خادم رضوی کررہے ہیں ۔ خادم رضوی گروپ کے دھرنے کے خلاف آپریشن کے بعد جب حالات کشیدہ ہوئے تو موقع غنیمت جانتے ہوئے آصف اشرف جلالی نے بھی لاہور کے مال رود پر دھرنا دیدیا۔ لاہور میں خادم رضوی گروپ کا دھرنا شاہدرہ میں جبکہ  آصف اشرف جلالی کا دھرنا پنجاب اسمبلی کے سامنے دیا گیا۔ اس وقت دھرنا ختم کرنے کا معاہدہ خادم رضوی گروپ سے حکومت نے کیا ہے۔اور یہی گروپ فیض آباد سے دھرنا ختم کررہا ہے لیکن جلالی گروپ نے ابھی دھرنے ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ وفاقی وزیر قانون کے مستعفی ہونے کے بعد اب جلالی گروپ کامطالبہ  وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کااستعفیٰ ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے دھرنا اسلام آباد سے لاہور منتقل ہوگیا ہے  نہ کہ مکمل ختم ہوا ہے۔ اب پنجاب حکومت کو آصف اشرف جلالی سے مذاکرات کرنا ہوں گے  تاکہ یہ دھرنے بھی ختم کرائے جاسکیں ۔سازشی کہانیاں کہتی ہیں کہ جن دو افراد کو گھر بھجوانے کا اسکرپٹ لکھا گیا تھا ان میں سے ایک نے ابھی استعفیٰ دیا ہے جبکہ راناثناءاللہ ابھی تک عہدے پر موجود ہے ۔ راناثناءاللہ  کے تعاقب میں تحریک لبیک کا دوسرا دھڑا ٓصف اشرف جلالی کی قیادت میں  موجود رہے گا۔ رانا ثناءاللہ کے استعفے کےلیے پیر آف سیال شریف  کو متحرک کردیا گیا ہے جنہوں نے 20 راکین اسمبلی کے ساتھ ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ پیر حمیدالدین سیالوی کے بھتیجے نظام الدین سیالوی اس وقت پنجاب میں ن لیگ کے ایم پی اے ہیں  انہوں نے رانا ثناءاللہ کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جھنگ سے اکرم شیخ بھی اس گروپ کے ساتھ ہیں ، غلام بی بی بھروانہ بھی نشست چھوڑنے کا اعلان کرچکی ہیں ۔ سازشی نظریات کے مطابق اب حکومت مخالف دھرنا اسلام آباد سے لاہو ر منتقل کردیا گیا ہے ۔یعنی دھرنا ابھی جاری ہے صرف اسٹیج اور کرداربدلے ہیں۔

Post Tags:

faizabaddharna

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*