سوسائٹی کے اصول

  • by Admin
  • نومبر 26, 2017
  • 0
  • 58  Views
  • 0 Shares

 

گل نوخیز اختر

اگر ایک جگہ کچھ لڑکیاں بیٹھی ہوں اور کسی کا بھائی وہاں سے گزرے تو کوئی ایک لڑکی اچانک بول اٹھتی ہے’’شازیہ ! تمہارا بھائی کتنا ہینڈ سم ہے‘ یہ تو ایک دم ہیرو ہے‘‘۔ لیکن اگر ایک جگہ کچھ لڑکے بیٹھے ہوں اور کسی کی بہن وہاں سے گذرے تو کیا کوئی لڑکا ایسا جملہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے؟؟؟ نہیں کر سکتا ناں! اس لیے کہ سوسائٹی نے طے کردیا ہے کہ ایسے جملے صرف لڑکیاں کہہ سکیں گی‘ لڑکے نہیں۔میں بھی یہی کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے نہ چاہتے ہوئے بھی مذہب سے کہیں زیادہ طاقتور سوسائٹی ہوچکی ہے۔دوسری شادی کرنا کوئی جرم نہیں‘ لیکن بیوی جتنی مرضی مذہبی ہو وہ ہر گز ہرگز اِس چیز کو تسلیم نہیں کرتی اور سوتن کے نام پر خونخوار ہوجاتی ہے۔اسی طرح مذہب میں شادی کے لیے بالغ مرد و عورت کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں‘ 90 سال کا بابا20 سال کی لڑکی سے شادی کرسکتاہے اور 80 سال کی مائی کسی 25 سالہ جوان لڑکے سے شادی کر سکتی ہے‘ لیکن دیکھ لیجئے‘ ایسا جب بھی ہوتاہے سوسائٹی میں طنز کے تیر چلنا شروع ہوجاتے ہیں حالانکہ مذہب میں ’’بے جوڑشادی‘‘ کا کوئی تصور نہیں‘اگر عورت اور مرد بالغ ہیں تو پھر دونوں کی عمروں میں 100 سال کا فرق ہی کیوں نہ ہو‘ وہ شادی کر سکتے ہیں۔ہماری سوسائٹی میں تو لوگ جوان اولاد کے ہوتے ہوئے مزید اولاد پیدا کرنے سے بھی شرماتے ہیں کیونکہ سوسائٹی اسے اچھا نہیں سمجھتی۔
آج سے آٹھ سال پہلے میرے ایک دوست کو دوسرے فرقے کی لڑکی سے محبت ہوگئی‘ لڑکی بھی واری واری جارہی تھی‘ خاندان میں بڑی لڑائیاں ہوئیں‘ تھانے کچہری تک نوبت پہنچی‘ لیکن پھر ہوا وہی جو ہوتا چلا آیا ہے‘ دونوں کی شادی ہوگئی‘ میرا خیال ہے محبت کرنے والے جوڑے کی سزا یہی ہے کہ فوراً دونوں کی شادی کرا دی جائے۔شادی کے شروع کے د ن تو بہت اچھے گذرے‘ لیکن پہلا بچہ پیدا ہوتے ہی ’’فرقہ وارانہ فسادات‘‘شروع ہوگئے۔میرا دوست اپنے بیٹے کا نام اپنے فرقے کے مطابق رکھنا چاہتا تھا‘ لڑکی اپنے فرقے کی حامی تھی‘ خیر کسی نہ کسی طرح نام کا مسئلہ تو حل ہوگیا لیکن تین سال بعد ایک اور نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا کہ لڑکے کو کس فرقے کی مذہبی تعلیم دی جائے؟ دونوں اپنے اپنے فرقے پر ڈٹے ہوئے تھے‘ یہ سوچے بغیر کہ اگر فرقہ طاقتور ہوتا تو وہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے شادی پر رضامند نہ ہوتے‘ شادی کرتے وقت دونوں نے فرقے بازی کو ہوا میں اڑا دیا‘ لیکن محبت کا خمار اترتے ہی دوبارہ اسی دلدل میں جا پڑے۔
مستحق کا زکواۃ لینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا صاحبِ حیثیت کا زکواۃ ادا کرنا‘ لیکن دیکھ لیجئے‘ زکواۃ لینا گالی بن گیا ہے‘ مجبور سے مجبور شریف آدمی بھی ادھارلینا گوارا کر لیتاہے‘ زکواۃ نہیں لیتا ‘حالانکہ ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی جو شخص زکواۃ نہیں لیتا وہ بھی ایک طرح سے گنہگار ہی ٹھہرتاہے کیونکہ اگر وہ زکواۃ نہیں لے گا تو کوئی دوسرا غیر مستحق یہ رقم لے اڑے گا۔اصل میں سوسائٹی اپنے آپ میں بڑی ظالم چیز ہے‘ یہ معاشرتی معاملات کو دیکھتے ہوئے اپنے ضابطے خود طے کرلیتی ہے‘ یہ مذہب کو مانتی تو ہے لیکن صرف عبادات کی حد تک‘ عملی معاملات میں یہ صرف اپنے اصولوں کو ترجیح دیتی ہے۔ پسند کی شادی مذہب میں کوئی جرم نہیں‘ لیکن ہماری سوسائٹی میں یہ اب بھی کسی حد تک ناپسندیدہ چیز ہی سمجھی جاتی ہے۔مذہب کہتا ہے کہ بچے بالغ ہوجائیں تو جلد سے جلد ان کی شادی کردو‘ لیکن سوسائٹی کہتی ہے کہ صرف بالغ نہیں‘ میچورہونا ضروری ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں بہت کم ایسے لڑکے لڑکیاں ہیں جو 18 سال کی عمر کو پہنچتے ہی شادی شدہ ہوجاتے ہیں۔مذہب کہتا ہے کہ اولاد کو حرام کے لقمے سے بچاؤ‘ سوسائٹی کہتی ہے کہ نہیں‘ اولاد کے لیے جوکچھ ہوسکتا ہے کر گذرو ‘ مذہب ذات برادری کو محض پہچان کا ذریعہ قرار دیتا ہے‘ لیکن سوسائٹی اِسے باعثِ فخر قرار دیتی ہے۔
کبھی غور کیجئے گا‘ سوسائٹی کے اصول کوئی نہیں بناتا‘ یہ اپنا آئین خود تحریر کرتی ہے اور لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی اس پر عمل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ کسی بھی مذہب کے بغیر شائد زندہ رہا جاسکتا ہے‘ سوسائٹی کے بغیر نہیں ‘ اور فی زمانہ کوئی مذہبی سے مذہبی شخص بھی سوسائٹی سے رشتہ توڑنے کو تیار نہیں۔مذہب اور سوسائٹی کے اسی دوغلے معیار نے ہمارے قول و فعل میں عجیب سا تضاد بھر دیا ہے‘ دین و دنیا کو اپنی چالاکی سے رام کرتے کرتے ہم عجیب سی مخلوق بن گئے ہیں‘ شب برات آئے گی ‘ تو ہم صرف اُن لوگوں سے معافیاں مانگیں گے جن سے ہماری کوئی ناراضی ہی نہیں‘ جن رشتے داروں اور دوستوں سے ہماری چپقلش چل رہی ہے اُن کے بارے میں یہی سوچیں گے کہ پہلے وہ ہم سے معافی مانگیں۔
رمضان شروع ہوگا تو ہمیشہ کی طرح گندے تیل میں پکے ہوئے پکوڑے سموسے ہر گلی میں تیار ہوتے نظر آئیں گے‘ عید کے دنوں میں مہنگائی کا حال دیکھئے گا‘ مزے کی بات ہے کہ جو لوگ مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی میں مصروف ہوں گے اُن میں سے اکثریت کا روزہ ہوگا اور اتنا کڑا روزہ ہوگا کہ اگر ان کے ہاں کوئی مہمان بھی آجائے تو رمضان کے احترام میں اُسے یہ تک نہیں پوچھیں گے کہ بھائی آپ کو بھوک تو نہیں لگی‘ آپ نے پانی تو نہیں پینا؟؟؟ ایسے ہی لوگ رمضان میں ہر طرف کرفیو کا سامان پیدا کر دیتے ہیں‘ بجائے اس کے کہ خود روزہ رکھ کے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں‘ یہ ہر کھانے پینے کی چیز زبردستی بند کروا دیتے ہیں کوئی نہیں سوچتا کہ اتنی گرمی میں اگر کوئی اپنے بچے کے ساتھ کہیں جارہا ہے اور بچے کو پیاس یا بھوک لگی ہے تو وہ کھانا کہاں سے کھائے‘ غیر مسلم اِن دنوں میں کہاں سے کھائیں؟ جس نے روزہ نہیں رکھا وہ کیا کرے؟؟؟ روزہ تو اللہ کے لیے ہے اور اُس نے وعدہ کیا ہے کہ میں ہی اس کی جزا دوں گا‘ پھر یہ کون لوگ ہیں جو ایسا کچا روزہ رکھتے ہیں کہ کسی کا منہ بھی ہلتا دیکھ لیں تو ان کا روزہ متاثر ہونے لگتاہے؟ ضیاء الحق کے دور میں تورمضان کے مہینے میں پولیس مجرم کم اور روزہ خورزیادہ پکڑا کرتی تھی۔
کبھی دل سے سوچئے گا کہ ہم لوگ رمضان میں غریب لوگوں کے ہوٹل تو بند کروا دیتے ہیں لیکن فائیو سٹار ہوٹلوں پر کسی کی نظر کیوں نہیں جاتی جہاں رمضان میں بھی ایک معمولی سی شرط کے عوض کسی بھی وقت کھانا کھایا جاسکتا ہے‘ شرط یہ ہوتی ہے کہ آ پ کے سامنے ایک کارڈ رکھ دیا جاتا ہے جس پر تینOptions ہوتی ہیں جن میں سے آپ کو ایک پر نشان لگاناہوتاہے ‘یہ تین آپشنز ہوتی ہیں کہ ’’ کیاآپ غیر مسلم ہیں؟۔۔۔کیاآپ مسافر ہیں؟۔۔۔ کیاآپ بیمار ہیں؟‘‘ آپ اگر کسی ایک پر نشان لگا دیں تو فوراً آپ کو آپ کا مطلوبہ کھانا مہیا کر دیا جاتاہے۔ اُستاد محترم عطاء الحق قاسمی صاحب اسی طرح رمضان کے دنوں میں لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں کھانا کھانے گئے تو اُن کے آگے بھی تین سوالوں والا کارڈ رکھ دیا گیا‘ اُستاد محترم نے غور سے کارڈ پڑھا‘ پین اُٹھایا اور سارے سوالات کاٹ کر نیچے لکھ دیا۔۔۔میں بھوکا ہوں۔۔۔

 

Post Tags:

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*
*